اعتکاف :
اعتکا ف کی تعریف :
مسجد میں عبادت کی نیت کے ساتھ ٹہرنے کانام اعتکاف ہے ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِى الْمُعْتَكِف
ِ " هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا ".
ِ " هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا ".
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معتکف(اعتکاف کرنے والے) سے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ گناہوں سےباز رہتا ہے،اور نیکیوں سے اسے اس قدر ثواب ملتا ہے کہ گویا اس نے تمام نیکیاں کیں۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب الصيام،باب فى ثواب الاعتكاف،حدیث نمبر:1853۔زجاجۃ المصابیح)
نیز ارشاد فرمایا:جس نے رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرلیا تو گویا اس نے دو حج اور دو عمرے کئے۔
٭ صحیح احادیث میں منقول ہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں نبی اکرم ﷺ کے لیے مسجد نبوی میں اسطوانہ توبہ کے پیچھے ایک جگہ مخصوص کردی جاتی، جہاں پردہ ڈال دیاجاتا یا چھوٹا ساخیمہ نصب کردیا جاتا۔
یہاں تک آپ ﷺ تن تنہا تمام دنیوی تعلقات سے کنارہ کش ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہمہ تن مصروف ہوجاتے ۔ اس خیمہ میں آپ ﷺ کے لیے بستر اور چارپائی بچھانا منقول ہے
(زادالمعاد)
یہاں تک آپ ﷺ تن تنہا تمام دنیوی تعلقات سے کنارہ کش ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہمہ تن مصروف ہوجاتے ۔ اس خیمہ میں آپ ﷺ کے لیے بستر اور چارپائی بچھانا منقول ہے
(زادالمعاد)
حضور ﷺ ہر سال رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے تھے ۔ آپ ﷺ شب قدر کی تلاش میں اعتکاف فرماتے تھے اسی لیے ایک سال پہلے عشرہ کا اعتکاف فرمایا پھر دوسرے سال درمیانی عشرے کا اعتکاف فرمایا پھر تیسری بار آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا۔ جب آپ ﷺ کو بذریعہ وحی یہ اطلاع دی گئی کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہوتی ہے تو اس کے بعد سے ہمیشہ آخری عشرے کا اعتکاف فرمایا۔ ایک سال آپا عتکاف نہ کرسکے تو شوال کے پہلے عشرے میں اس کی قضا فرمائی ۔
حیات طیبہ کے آخری سال آپ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
( زادالمعاد)
( زادالمعاد)
ارشاد نبوی ﷺ :
جو شخص رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرے اس کو دو حج اور دو عمروں کا ثؤاب عطا کیاجاتا ہے
(بیہقی)
جو شخص رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کرے اس کو دو حج اور دو عمروں کا ثؤاب عطا کیاجاتا ہے
(بیہقی)
حضور ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں راتوں کو خوب جاگتے اور عبادت کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی عبادت کے لیے بیدار فرماتے ۔ (بخاری ، ترمذی)
دوران اعتکاف حضور ﷺ نہ کسی مریض کی عیادت فرماتے ۔
نہ جنازہ میں زریک ہھوتے ۔
نہ وظیفہ زوجیھت ادا فرماتے ۔
طبعی ضروریاھت ( رفع حاجت ) کے لیے گھر جانا پڑتا تو راہ چلتے ہوئے بھی مریض سے زیادہ بات چیت اور لمبی چوڑی عیادت نہ فرماتے ۔
( ابو داؤد )
نہ جنازہ میں زریک ہھوتے ۔
نہ وظیفہ زوجیھت ادا فرماتے ۔
طبعی ضروریاھت ( رفع حاجت ) کے لیے گھر جانا پڑتا تو راہ چلتے ہوئے بھی مریض سے زیادہ بات چیت اور لمبی چوڑی عیادت نہ فرماتے ۔
( ابو داؤد )
احادیث مبارکہ سے اعتکاف کے یہ آداب معلوم ہوتے ہیں :
(الف)بغیر روزے کے اعتکاف نہ کیاجائے ۔روزے کے بغیر شرعاًاعتکاف ادا نہیں ہوتا ۔
(ب) بغیر روزے اعتکاف نہ کیاجائے ۔ روزے کے بغیر شرعا اعتکاف ادا نہیں ہوتا۔
(ج)ہمت اور طاقت کے مطابق راتوں کو عبادت سے قیمتی بنایاجائے ۔
(د)کاروباری تعلقات ،ازدواجی تعلقات اور تما م دنیوی کاموں سے لاتعلق ہو کر اللہ جل شانہ کی یاد اور اس کی عبادت کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیاجائے ۔البتہ طبعی ضروریات مثلا پیشاب ، پاخانہ ، طہارت وغیرہ کے لے مسجد سے باہر نکلنا درست ہے ۔
٭رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شب قدر کی تلاش سنت عمل ہے۔ آپ ﷺ کےا عتکاف کا ایک مقصد شب قدر کی تلاش بھی ہوتا تھا۔ شب قدر کی عبادت ایک ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
جس شخص کو اس رات عبادت کی توفیق مل جائے اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں
( مسند احمد ، الترغیب)
جس شخص کو اس رات عبادت کی توفیق مل جائے اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیے جاتے ہیں
( مسند احمد ، الترغیب)
قرآ ن مجید بھی شب قدر میں نازل ہوا ہے ۔ آپ ﷺ سے شب قدر کی یہ دعا منقول ہے :
الھم انک عفو کریم تحب العفو، فاعف عنی ۔ شب قدر پانے کا آسان طریقہ اعتکاف یا طاق راتوں میں عبادت ہے ۔